ابنا: ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے قتل کے مشکوک واقعے کے بعد پاکستان میں اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ اب دہشتگردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ پر نظرثانی ضروری ہو گئی ہے۔ اس بارے میں کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ ایک اہم دستاویز ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت پاکستان نے اعلامیے کے مطابق قومی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہاں تک کہ اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے پارلیمانی کمیٹی بھی قائم نہیں کی۔ پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے امریکا کی جرات اتنی بڑھی کہ اس نے سلالہ چیک پوسٹ پر چھبیس پاکستانی فوجیوں کو بھون ڈالا۔ امریکی فوجی 2 گھنٹے تک پاکستان کی حدود میں کارروائی کرتے رہے اور دفاع پاکستان کی ذمہ داری ادا کرنے والے نامعلوم اسباب سے خاموش رہے۔
اس واقعے پر امریکا کے خلاف عوامی ردعمل میں اضافہ ہو گیا اور پاکستان نے افغانستان پر قابض امریکی اور ناٹو فوجوں کی رسد بند کر دی، یہ رسد اب تک بند ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس بارے میں قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ پاکستان اور امریکا تعلقات میں کشیدگی اور تناو کے اس مرحلے پر خلاف معمول امریکا خاموش ہے۔ الزام تراشی کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ پاکستان کے بغیر ”افغان جنگ نہیں جیت سکتے، اسی کشیدگی کے دوران میں پاکستان میں ”میمواسکینڈل“ بھی سامنے آیا ہے۔ میمو اسکینڈل کی وجہ سے کئی مہینوں تک واشنگٹن میں قائم مقام سفیر کے ذریعے کام چلایا جا رہا تھا۔
اب حکومت پاکستان نے پارٹی کی بااعتماد رہنما اور سابق صحافی شیری رحمن کو امریکا میں سفیر مقرر کر دیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے شیری رحمن سے اسناد سفارت کی وصولی کے موقع پر کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ازسرنو تعلقات کا فوری طور پر خواہاں ہے، پاک امریکا تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔ بارک اوباما نے اپنے ایک اور انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے، افغانستان کو دوبارہ فساد کا گڑھ بننے سے روکنا ہمارے ہی نہیں بلکہ پاکستان، روس، چین، بھارت اور ایران سمیت دیگر ممالک کے مفاد میں بھی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ 26 نومبر کے بعد جرات مندانہ رویہ اختیار کرنے سے امریکی رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ امریکا اس بات کا اعتراف تو نہیں کر رہا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے لیکن اس کی عالمی بالادستی پر شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین کی عبرت ناک شکست نے عالمی منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے۔ اس وجہ سے اب امریکا کے لیے مشکل ہو گیا ہے کہ وہ خطے اور دنیا کی دیگر طاقتوں کو سر اٹھانے سے روک سکے۔
امریکی کمزوری کے دو مظاہر سامنے آ چکے ہیں، نمبر ایک یہ کہ امریکا جن طالبان کا نام و نشان مٹانے کے لیے افغانستان کے پہاڑوں میں سر پھوڑنے آیا تھا اب ان سے ہی مذاکرات کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ دوسرا مظہر یہ ہے کہ 64 برسوں میں پہلی بار پاکستان نے امریکا کے مقابلے پر اتنا واضح اور اصولی موقف اختیار کیا۔ ناٹو کی سپلائی معطل کر دی اور اس کے ساتھ بون کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اسی تناظر میں اخبارات میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ حکومت پاکستان نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان مارک گراسمین کو دورہ کرنے سے روک دیا ہے۔
ماضی میں پاکستانیوں کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ کسی امریکی عہدیدار کو پاکستان آنے سے روکیں۔ پاکستان میں رائے عامہ میں امریکی مخالفت عروج پر ہے۔ رائے عامہ کی موجودہ لہر پاکستان میں بنیادی سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ عالم عرب اور مشرق وسطیٰ میں عوامی اور اسلامی بیداری کے بعد مستحکم آمریتیں زمیں بوس ہو گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر لیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ نے پاکستان کی معیشت تباہ کر دی ہے، شہریوں کی زندگی محفوظ ہے اور نہ ہی ان کے اموال۔ اس لیے سب سے پہلے پاکستان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پوری دنیا کو بتا دیا جائے کہ پاکستان غیرت مند اور باہمت قوم کا ملک ہے اور وہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان امریکا کی مجبوری ہے، امریکا پاکستان کی مجبوری نہیں ہے۔
........
/169